*لاہور: (خبر ایجنسی)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت جاری **”سوہنے پنڈ، سوہنیاں راہواں”** پروگرام صوبے میں دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا ایک بڑا منصوبہ بن چکا ہے۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دیہات کو معیاری سڑکوں کے ذریعے شہروں، منڈیوں، تعلیمی اداروں اور طبی سہولیات سے بہتر انداز میں جوڑنا ہے تاکہ دیہی آبادی کو جدید سفری سہولیات اور معاشی مواقع میسر آ سکیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہزاروں کلومیٹر دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر، بحالی اور توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متعدد جائزہ اجلاسوں میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر اور اعلیٰ تعمیراتی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں، جبکہ ناقص میٹریل یا غیر معیاری کام پر کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔حالیہ جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ صرف 75 روز کے دوران **1,129 سڑکوں کے منصوبے مکمل** کیے گئے، جبکہ **”سوہنے پنڈ، سوہنیاں راہواں” پروگرام کے تحت تقریباً 1,795 کلومیٹر روڈ نیٹ ورک** پر **30 ارب روپے** کی لاگت سے کام جاری یا مکمل کیا جا چکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے دیہی علاقوں میں سفری سہولت، تجارتی سرگرمیوں اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب کے مختلف اضلاع میں کارپٹ روڈز، لنک روڈز اور دیہی شاہراہوں کی تعمیر و بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ملتان، بہاولپور، خانیوال، جھنگ، چنیوٹ، ساہیوال، قصور، لاہور ڈویژن اور دیگر علاقوں میں متعدد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کئی پر تیزی سے کام جاری ہے۔ماہرین کے مطابق دیہی رابطہ سڑکیں صرف سفری سہولت کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ مقامی معیشت کی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ بہتر سڑکوں کی بدولت کسان اپنی فصل کم وقت میں منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوتے ہیں، دیہی صنعتوں کو فروغ ملتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں تک رسائی آسان ہوتی ہے جبکہ مریضوں کو ہنگامی طبی سہولیات تک بروقت پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔حکومت پنجاب کا مؤقف ہے کہ ماضی میں کئی دیہی سڑکیں برسوں تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہیں، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لیے موجودہ پروگرام میں صرف نئی سڑکوں کی تعمیر ہی نہیں بلکہ پرانی اور خستہ حال سڑکوں کی مکمل بحالی کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ہر منصوبے کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ترقیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دیہی انفراسٹرکچر مضبوط ہو تو اس کے مثبت اثرات براہ راست روزگار، سرمایہ کاری، زرعی پیداوار اور مقامی تجارت پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں دیہی شاہراہوں کو معاشی ترقی کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں بھی اس پروگرام سے لاکھوں افراد مستفید ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، خصوصاً وہ علاقے جہاں برسوں سے رابطہ سڑکیں خستہ حالی کا شکار تھیں۔دوسری جانب بعض حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ منصوبے کی حقیقی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ تعمیراتی معیار، شفافیت، بروقت تکمیل اور بعد از تعمیر دیکھ بھال پر ہوگا۔ ان کے مطابق اگر نگرانی مؤثر رہی اور سڑکیں طویل عرصے تک قابل استعمال رہیں تو یہ پروگرام دیہی پنجاب کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر **”سوہنے پنڈ، سوہنیاں راہواں”** پروگرام پنجاب حکومت کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکومت اسے دیہی ترقی، بہتر سفری سہولیات اور معاشی خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ منصوبہ اپنے مقررہ اہداف، معیار اور مدت کے مطابق مکمل ہو کر دیہی پنجاب کی تقدیر بدلنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔




