پاکستان کی سفارتی کامیابی: ایران-امریکہ کشیدگی میں ثالثی، عالمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا**اسلام آباد:*پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو ثابت کر دیا کہ وہ صرف جغرافیائی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تازہ ترین سفارتی پیش رفت کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کر کے ممکنہ عالمی جنگ کے خطرے کو ٹال دیا ہے۔ اس کامیاب ثالثی کا کریڈٹ ملکی قیادت کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت کو بھی جاتا ہے جنہوں نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔*پس منظر:*گزشتہ کئی ماہ سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک تھی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے، بحری گزرگاہوں کی حفاظت اور خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ نے دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔ عالمی مبصرین مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ کسی بھی چھوٹے واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم شروع ہو سکتا ہے جس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے۔تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، اسٹاک مارکیٹوں میں مندی اور ایٹمی جنگ کے خدشات نے عالمی معیشت کو پہلے ہی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں بیانات تک محدود تھیں جبکہ عملی سطح پر کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ رہی تھی۔*پاکستان کا کردار:*ایسے نازک موقع پر پاکستان نے خاموش سفارتکاری کا راستہ اپنایا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی قیادت نے دونوں ممالک کے ساتھ علیحدہ علیحدہ رابطے کیے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا۔ پاکستان کی پوزیشن ہمیشہ سے واضح رہی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کی میز پر ممکن ہے۔اس سفارتی کوش میں پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت، بالخصوص آرمی چیف نے اہم کردار ادا کیا۔ فوجی قیادت نے اپنے عالمی ہم منصبوں سے رابطے کر کے اعتماد سازی کا عمل شروع کیا۔ پاکستان کی یہ پالیسی کہ وہ کسی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے امن کا حامی ہے، اس کامیابی کی بنیاد بنی۔پاکستان نے دونوں فریقین کو یقین دلایا کہ ان کے جائز تحفظات کو سمجھا جائے گا اور کسی بھی فریق کی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ اسی بنیاد پر مذاکرات کی میز سجی اور بالآخر دونوں ممالک جنگ کے بجائے بات چیت پر راضی ہو گئے۔*عالمی ردعمل:*پاکستان کی اس کامیاب ثالثی پر دنیا حیران ہے۔ عالمی میڈیا اسے “اسلام آباد کی سفارتی اڑان” قرار دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف امداد لینے والا ملک نہیں بلکہ عالمی امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔چین، ترکی، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کی کوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ثالثی عالمی امن کے لیے مثال ہے۔*پاکستان کے لیے اہمیت:*یہ کامیابی پاکستان کے لیے کئی لحاظ سے اہم ہے۔ اول، اس سے پاکستان کا عالمی امیج بہتر ہوا ہے۔ دوم، معاشی طور پر بھی یہ پاکستان کے حق میں جائے گی کیونکہ جنگ ٹلنے سے تیل کی قیمتیں مستحکم ہوئیں اور خطے میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوا۔ سوم، اس سے پاکستان کی اس پالیسی کو تقویت ملی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ عالمی امن کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔*تجزیہ:*سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن، ایران اور امریکہ دونوں سے تعلقات اور مسلم دنیا میں اس کی ساکھ نے اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد حاصل کیا جو کہ جدید سفارتکاری کی ایک بڑی مثال ہے۔آرمی چیف کی شمولیت نے اس پیغام کو مزید مضبوط کیا کہ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت قومی مفاد کے معاملے پر ایک صفحے پر ہے۔ یہ ہم آہنگی ہی تھی جس نے عالمی طاقتوں کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کی ثالثی سنجیدہ اور قابل عمل ہے۔*نتیجہ:*مختصراً یہ کہ پاکستان نے اپنی ہمت، بصیرت اور سفارتی مہارت سے نہ صرف اپنے ملک کو بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچا لیا۔ “شہباز کی اڑان، دنیا حیران” کا نعرہ آج عملی طور پر سچ ثابت ہوا ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے یہ لمحہ فخر کا ہے کہ ان کا ملک مشکل وقت میں بھی امن کا پرچم بلند کیے ہوئے ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سفارتی کامیابی کو معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ پاکستان واقعی ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرے۔ (خبر ایجنسی)




