اسلام آباد (خبر ایجنسی) – وزیراعظم پاکستان کے عوام دوست فیصلے پر سیاسی، اقتصادی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور تشکر کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی ریکارڈ کمی کرتے ہوئے عوام کو تاریخی ریلیف فراہم کیا ہے، جسے ملک کی تاریخ میں ایک منفرد اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اقتصادی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا، جس میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری، اور اندرونی ایندھن کے ذخائر کی بہتر دستیابی کو مدنظر رکھا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس کمی کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے تمام صوبائی انتظامیاؤں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔وفاقی وزیر برائے عوامی امور جناب رانا مبشر اقبال نے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ “وزیراعظم کا یہ اہم فیصلہ عوام دشمن مہنگائی کے خلاف جنگ میں ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر نمایاں کمی کر کے حکومت نے ثابت کر دیا کہ وہ عام آدمی کے دکھ درد کو سمجھتی ہے اور اس کے ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ ریلیف پیکج وزیراعظم کے ویژن “عوام پہلے” کی عملی تفسیر ہے، اور مستقبل قریب میں عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے دیگر شعبوں میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔صوبائی اسمبلی کے رکن رانا راشد منہاس، ایم پی اے چوہدری نواز لدھڑ اور ایم پی اے میاں عمران جاوید نے اس ریلیف پیکج کو “عوام کے لیے سکھ کا سانس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “مہنگائی کے خلاف جنگ اور عوامی ریلیف کے سفر میں یہ ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔ وزیراعظم نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر عوام کو ریلیف دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں غریب اور متوسط طبقے کا تحفظ سب سے اوپر ہے۔ انشاءاللہ ترقی اور خوشحالی کا سورج جلد طلوع ہو گا۔” ایم پی اے رانا راشد منہاس کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے نہ صرف عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ صنعتوں اور کاروباروں کو بھی ریلیف ملے گا، جس سے معاشی سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی کا براہ راست مثبت اثر اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اور مینوفیکچرنگ لاگت پر پڑے گا، جس سے عام شہری کو فوری اور طویل المدتی ریلیف ملے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی سے اوسطاً ایک خاندان کا ماہانہ خرچہ 5 سے 7 ہزار روپے تک کم ہو سکتا ہے، جبکہ کاروباری لاگت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام اور ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کی مضبوطی اس ریلیف کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔عوامی حلقوں نے بھی وزیراعظم کے اس فیصلے کو دلی طور پر سراہا ہے۔ ملک بھر سے شہریوں نے اس اقدام کو “قابل تعریف” اور “وقت کی ضرورت” قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کمی کو دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی لاگو کرنے کے لیے موثر نگرانی اور کنٹرول نظام قائم کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام کی جانب سے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنے والے ٹرینڈز دیکھنے کو ملے، جہاں صارفین نے اسے “عوامی دوست فیصلہ” قرار دیا اور مستقبل میں مزید ریلیف کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کا ویژن “عوام پہلے” ہے اور وہ مستقبل میں بھی عوامی فلاح کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔ اس سلسلے میں توانائی کے دیگر شعبوں، جیسے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، اور فلاحی پروگراموں کے نفاذ کے لیے حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اس کمی کا فائدہ یقینی بنانے کے لیے پرائس کنٹرول میکانزم کو مزید موثر بنایا جائے۔یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی چیلنجز کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم نے عوام کے لیے رمضان پیکج، فلاحی قرضوں کے پروگرام، اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لیے بھی متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ مہنگائی کی شرح میں بھی کمی آئے گی، جس سے مجموعی معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں معاشی اشاریوں میں مزید بہتری آئے گی اور عوام کو طویل مدتی ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔اس موقع پر وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ریلیف کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “مشکل حالات میں بھی عوام کا ساتھ دینا ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم اپنے وعدوں پر قائم ہیں۔”





